₨4000

Milk thistle seeds اونٹ کٹارا Rs 4000 per KG Excluding delivery

1 of
Previous Next

Ad Details

  • Ad ID: 636156

  • Added: September 18, 2020

  • Sale Price: ₨4000

  • Condition: Brand New

  • Location: Pakistan

  • State: ISLAMABAD

  • City: ISLAMABAD

  • Phone: 03465729576

  • Views: 37

Description

Milk Thistle seeds (اونٹ کٹارا )

Rs 4000 Per KG (Excluding

Delivery Charges )

عربی میں اشوک الجمل ،فارسی میں شتر ،گجراتی میں ا

اکنٹو.

سندھی میں کانڈیری وڈی۔ ہندی میں اٹ کٹ نکا کہتے ہیں۔

ماہیت:-

اس کا پودا اکثر ایک فٹ سے ڈھائی فٹ تک اونچا دیکھا گیا ہے۔ سردیوں میں اسکے پودے سبز ہوتے ہیں۔ جب تک اس کے پھل نہیں لگتے۔ اس وقت تک اس کا پودا ستیا ناسی پودے کی طرح معلوم ہوتا ہے۔ اس کی جڑ گاؤ دم کی طرح چار سے چھ انچ لمبی ہوتی ہے۔ پتے ستیاناسی سے کچھ چھوٹے لیکن لمبے اور نیچے سے سفید رنگ کے روئیں دار ہوتے ہیں۔ پھول پانچ پنکھڑیاں والے سفید رنگ کے جن کے اندر سے سفید روئی کی طرح مواد نکلتا ہے۔

پہچان:-

ہندوستان کی قدیم بوٹی ہے جس کا ذکر جرک اور سثرت میں بھی آیا ہے۔ بعض اطباء اس کو برہم ڈنڈی کی قسم مانتے ہیں۔ اور بعض ستیاناسی کی لیکن اونٹ کٹارہ ان دونوں سے بالکل مختلف ہے۔ جیسا کہ ماہیت سے ظاہر ہے کہ ایسا دھوکا اس لئے ہوتا ہے کہ ستیاناسی کے پودے کی طرح اس میں بھی ہر جگہ کانٹے ہوتے ہیں۔ جوکہ اوپر کو اٹھے ہوتے ہیں۔

رنگ:-

پھول زرد و سفید کانٹے دار۔

ذائقہ:-

تلخ۔

مقام پیدائش:-

پاکستان اور ہندوستان کی ریتلی زمین سے بکثرت پیدا ہوتی ہے۔

مزاج:-

گرم خشک درجہ دوم۔

افعال:-

مقوی معدہ، محلل اورام باردہ ،مدربول ،مقوی باہ،دافع بخار ،نقرس میں مفید ہے۔ کے پودے کا بیج ہیپاٹائٹس‘ جگر کے کینسر ‘شوگر‘گردے کے امراض کیلئے اکسیر کا درجہ رکھتا ہےِ ، اس بیج کو بسکٹ‘کیک ‘پیزا بنانے میں گندم کی جگہ استعمال کیا جائے تو یہ غذا کے ساتھ ساتھ انسانی صحت کیلئے بے حد مفید ہے۔ پانی کے آلودہ ہونے کی وجہ سے جگر کے امراض میں اضافہ ہو رہا ہے ، اونت کٹارا کا بیج ہیپا ٹائٹس سی کے وائرس کے خلاف قوت مدافعت رکھتا ہے جو جگر کے کینسر سمیت جگر کے پیچیدہ امراض کے لیے اکسیر کا درجہ رکھتا ہے۔جگر کی اصلاح کیلئے اونت کٹارا اکسیر کا درجہ رکھتا ہے،ہر شخص کو 6ماہ میں ایک بار اس بیج کو ضرور استعمال کرنا چاہئیے اس بیج میں سلی میرین پائی جاتی ہے جو جوہر اعظم کا کام کرتی ہے،یہ شوگر کے امراض کے لیے بھی بہت زیادہ مفید ہے اور جسم سے انسولین کے ضیاع کو روکتی ہے،کولیسٹر ول کو کم کرتی ہے ، کینسر کے خلیات کی بڑھوتری کو روکتی ہے ،جوڑوں کے درد کی وجہ سے ہونے والی سوزش کو روکنے کے لیے بہت زیادہ مفید ہے۔اونت کٹارا قبض‘جگر کی سوزش‘گردے کے خلیات کو نقصان پہنچانے سے روکتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ نظام انہضام کو درست کرتا ہے۔ یورپ میں اس بیج کو کافی بنانے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے جس کے بہترین نتائج برآمد ہو رہے ہیں اگر اونت کٹارا کے بیج کو بسکٹ‘کیک ‘پیزا ‘قہوہ اورکافی بنانے میں استعمال کیا جائے تو یہ غذا کے ساتھ ساتھ انسانی صحت کے لیے بھی بہت زیادہ مفید ہے کیک‘بسکٹ‘پیزا میں استعمال ہونے والے گندم کے آٹے کی جگہ 3فیصد اونت کٹارا کا بیج استعمال کیا جائے تو یہ بہترین غذا اور صحت کے لیے مفید ہے۔اونٹ کٹارا کے تخم، پتے اور جڑ کا چھلکا عموماً استعمال ہوتا ہے۔ تخم بھوک کی کمی کو دور کرنے کے علاوہ بدہضمی ،،یرقان،کالا، بھس، صفراوی مادوں اور یورک ایسڈ کو پیشاب اور پاخانے کے ذریعے نکال دیتا ہے۔ جڑ کاچھلکا ضعف باہ میں کافی استعمال کیا جاتا ہے۔ جڑ کا چھلکا بطور جوشاندہ بخارسنگ گردہ ،تقطیرالبول،مصفیٰ خون اور پیاس کم کرتا ہے۔ اس کی جڑ پان کی جڑ کے ساتھ کھانا کھانسی میں مفید ہے۔ اس کی جڑ اور سونف کو باریک پیس کر سر پر لیپ کرنا درد سر بارد میں مفید ہے۔ اس کی جڑ سونٹھ کو باریک پیس کر شہد میں ملا کر قضیب پر لیپ کر نے سے شہوت زیادہ آتی ہے۔اور سختی بڑھ جاتی ہے۔ پتے کے رس کو شہد کےہمراہ دینا کھانسی اور دمہ میں مفید ہے۔

کانٹوں کو صاف کر کے پتوں کو خنازیر پر باندھنے سے گلٹیاں تحلیل ہوجاتی ہیں۔

پودے کے تمام اجزاء کو شہد یاشکر کے ساتھ استعمال کرنا پیشاب لاتا اور مصفیٰ خون ہے

باری کے بخار خصوصاً چوتھیا بخار (ملیریا) اور وجع المفاصل میں خاص مفید ہے

Tags :